بھارت میں ریکارڈ نئے کیسز سامنے آنے کے باوجود ٹرین سروس بحال

aiksath.com.pk

نئی دہلی: بھارت میں ریکارڈ نئے کیسز سامنے آنے کے باوجود ٹرین سروس بحال کردی گئی۔

آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک اور جنوبی ایشیائی خطے میں کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک بھارت میں ایک ہی دن میں نئے 4200 کیسز سامنے آنے کے باوجود حکومت نے جزوری طور پر ٹرین سروس بحال کردی،بھارت میں عالمی وبا کوروناوائرس کا انفیکشن تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 70 ہزار کے ہندسے سے تجاوز کر گئی ہے۔

ملک کے مختلف حصوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کوروناانفیکشن کے 3604 نئے کیس سامنے آنے کے بعد متاثرین کی تعداد 70 ہزار سے زیادہ ہو گئی اور اس دوران 87 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ ہندوستان 50 ہزار سے زائد متاثرین کی تعداد والے ممالک کی فہرست میں 13 ویں مقام پر پہنچ گیا ہے۔

بھارت میں مارچ کے وسط کے بعد کورونا کے پھیلا وکو روکنے کے لیے لاک ڈاون نافذ کیا گیا تھا اور ابتدائی 2 ہفتوں تک وہاں سخت لاک ڈاون رہا تاہم لاک ڈاون کی مدت بڑھائے جانے کے بعد اس میں کچھ نرمی بھی کردی گئی تھی۔بھارت نے لاک ڈاون کی مدت تیسری مرتبہ بھی بڑھاتے ہوئے مئی کے وسط تک لاک ڈاون کو نافذ کردیا تھا تاہم مئی کے شروع میں ہی لاک ڈان میں نرمی کرتے ہوئے کئی کاروبار کھولنے کی اجازت دی گئی تھی۔

بھارت میں گزشتہ ہفتے سے شراب کی دکانوں سمیت دیگر عام اشیا کی دکانوں کو بھی کھولنے کی اجازت دی گئی تھی اور اب حکومت نے 12 مئی سے ابتدائی طور پر یومیہ 15 ٹرینیں چلانے کا اعلان کردیا۔بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے کے مطابق 12 مئی سے دارالحکومت نئی دہلی سے ملک کی مختلف ریاستوں کے شہروں میں 15 ٹرینیں جائیں گی اور جہاں یہ ٹرینیں جائیں گی، وہیں سے اتنی ہی ٹرینیں دہلی کی جانب واپس بھی آئیں گی۔حکومت کی جانب سے ٹرین سروس کو بحال کرنے کا اعلان کرتے ہی 11 مئی کو ٹرین کی ٹکٹوں کی بکنگ شروع کردی گئی گئی تھی۔

حکومت نے ٹرین سروس کو بحال کرتے ہوئے ٹکٹوں کی صرف آن لائن بکنگ ہی شروع کی ہے اور ٹرین سروس بحالی کے باوجود بکنگ دفاتر بند رہیں گے۔انڈین ایکسپریس کے مطابق ٹرینوں میں مسافروں کے درمیان سماجی فاصلے کو یقینی بنایا جائے گا اور اس لیے انتظامیہ نے ٹرین کی ہر دو افراد کے درمیان والی سیٹ کی بکنگ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔سفر کرنے والے ہر شخص کو فیس ماسک لازمی پہننا ہوگا اور وہ اپنے ساتھ ایک اضافی تھیلا بھی رکھے گا جس میں وہ استعمال کی ہوئی چیزوں کو رکھنے کے بعد آخر میں اسے محفوظ طریقے سے کچرے دان میں پھینکے گا۔

ٹرین سروس کے دوران سینیٹائزرز کے استعمال کو بھی یقینی بنایا جائے گا جب کہ مسافروں کے ابتدائی طبی چیک اپ کے بعد ہی انہیں سفر کی اجازت دی جائے گی اور کسی کو بھی تھوڑے بخار یا کم علامات کے باعث سفر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔پہلے مرحلے میں اگرچہ 15 ٹرینیں ہی چلائی جائیں گی تاہم سلسلہ وار ٹرینوں میں اضافہ کیا جائے گا اور یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ مکمل ٹرین سروس کب تک بحال کی جائے گی۔لاک ڈاون سے قبل بھارت میں یومیہ 12 ہزار ٹرینیں ایک سے دوسرے شہر کروڑوں انسانوں کو منتقل کرنے کا کام کرتی تھیں۔